خال خال
معنی
١ - بہت کم، کوئی کوئی۔ "صاف سنسان سڑکوں پر ٹریفک خال خال تھا۔" ( ١٩٨٠ء، ماہ روز، ٢٧٥ ) ٢ - کہیں کہیں اکا دکا۔ "نیچے دکانیں یا خال خال دفاتر اور اوپر حسن فروشوں کے بالاخانے۔" ( ١٩٨٤ء، مری زندگی فسانہ، ١٤٩ ) ٣ - شاذ و نادر، کبھی کبھار۔ "رابعہ. اپنے وقت کی ایک ایسی عالم و فاضل شاعرہ تھی جس کی مثالیں تاریخ میں خال خال ملتی ہیں۔" ( ١٩٦١ء، تحقیق و تنقید، ١١٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خال' کی تکرار سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٠٧ء میں "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بہت کم، کوئی کوئی۔ "صاف سنسان سڑکوں پر ٹریفک خال خال تھا۔" ( ١٩٨٠ء، ماہ روز، ٢٧٥ ) ٢ - کہیں کہیں اکا دکا۔ "نیچے دکانیں یا خال خال دفاتر اور اوپر حسن فروشوں کے بالاخانے۔" ( ١٩٨٤ء، مری زندگی فسانہ، ١٤٩ ) ٣ - شاذ و نادر، کبھی کبھار۔ "رابعہ. اپنے وقت کی ایک ایسی عالم و فاضل شاعرہ تھی جس کی مثالیں تاریخ میں خال خال ملتی ہیں۔" ( ١٩٦١ء، تحقیق و تنقید، ١١٢ )